Skip to main content

ایم کیو ایم مرکز ۹۰ پر رینجرز آپریشن کیس کی تازہ صورت حال



مزکورہ آپریشن ۱۱ مارچ ۲۰۱۵ کو ہوا جس میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے ۹۰ مرکز اور خورشید میموریل ہال سے مختلف 
جرائم میں مطلوب 26 دہشت گردوں جن میں جیو نیوز رپورٹر بابر خان ولی کے قتل میں سزا یافتہ ملزم فیصل عرف موٹا اور بدنام زمانہ ٹارگٹ کلر عبید عرف کے ٹو وغیرہ شامل ہیں کو گرفتار کیا تھا اور ان سے بڑی تعداد میں اسلحہ ، اوان بم اور ایمونیشن برآمد کیا تھا ۔  
گرفتار ملزمان کے خلاف رینجرز کی مدعیت میں تھانہ عزیز آباد میں ایف آئ آر درج کی گئیں جو انسداد دہشت گردی کی عدالت  نمبر 17 میں زیر سماعت ہیں 
واضح رہے کہ عدالت میں ایم کیو ایم کے وکلا کی بھاری تعداد اس کیس کا دفاع کر رہی ہے جبکہ رینجرز کی لیگل ٹیم نے کامیابی سے 4 مرکزی گواہان کے بیان ریکارڈ کرا دیے ہیں جن میں سے دو رینجرز گواہان پر جرح مکمل ہو گئی ہے اور دو گواہان پر جرح آئندہ سماعت 25 جون پر ہوگی۔ 
واضح رہے کی گرفتار شدہ ملزمان عبید عرف کے ٹو ، نادر شاہ اور شکیل عرف بنارسی کو ٹارگٹ کلنگ اور اسلحہ کے الگ مقدمات میں بھی عدالت سے سزائیں  ہو چکی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ۹۰ مرکز دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ تھی
مزید براں، ۹۰ مرکز سے آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے راہنما عامر خان کو  بھی دہشت گردوں کو پناہ دینے اور سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ عامر خان کے دیگر ساتھی ریس ماما ، منہاج قاضی  مفرور تھے۔ مزکورہ  مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 6 میں زیر سماعت ہے جبکہ ملزم عامر خان اس 

Comments